ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بجٹ سیشن: مودی حکومت نے بلوں پر بنایا ریکارڈ، جے ڈی یوسمیت اپوزیشن کاحملہ، کہا، جلدبازی درست نہیں 

بجٹ سیشن: مودی حکومت نے بلوں پر بنایا ریکارڈ، جے ڈی یوسمیت اپوزیشن کاحملہ، کہا، جلدبازی درست نہیں 

Tue, 30 Jul 2019 00:01:13    S.O. News Service

نئی دہلی، 29 جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مودی 2 حکومت کے لیے پارلیمنٹ میں آغازاچھا رہا۔17 ویں لوک سبھا کے پہلے سیشن میں ایوان میں دو درجن سے زیادہ بل پیش کیے گئے اور ان میں سے اکثر کو حکومت پاس کرانے میں کامیاب رہی۔گزشتہ 15 سال میں یہ ابتدائی اور بجٹ سیشن میں کسی بھی حکومت کی بہترین کارکردگی رہی،جبکہ اپوزیشن کا یہ الزام رہا ہے کہ این ڈی اے حکومت بلوں کو کسی بھی طرح پاس کرنے کے لئے ایوان کو پابند کر رہی ہے۔عام انتخابات میں جیت کے بعد 17 ویں لوک سبھا کے پہلے سیشن میں کام کاج کی رفتار کو بھی حکومت جیت کی طرح لے رہی ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ واقعی ابتدائی سیشن حکومت کے لئے کامیابی والا رہا ہے۔26 جولائی تک مودی حکومت نے لوک سبھا میں 30 بل پیش کئے،ان میں سے ایوان نے 20 بل پاس کئے،جہاں تک دونوں ایوانوں کا سوال ہے تو 14 بل پاس ہوئے ہیں۔سال 2004 کے بعد لوک سبھا کے پہلے یا بجٹ اجلاس میں سب سے زیادہ بل پاس ہوئے ہیں۔ سال 2004 میں 14 ویں لوک سبھا سے لے کر سال 2014 میں 16 ویں لوک سبھا تک پہلے سیشن میں کوئی قانون سازی کام کاج نہیں ہوا۔سال 2004 میں 5 جولائی سے 26 اگست تک چلے بجٹ سیشن میں صرف 6 بل پاس کرائے جا سکے تھے۔اسی طرح سال 2009 میں 15 ویں لوک سبھا کے بجٹ سیشن (2 جولائی سے 7 اگست) میں محض 8 بل ہی پاس کرائے جا سکے۔سال 2014 میں 16 ویں لوک سبھا کے بجٹ سیشن میں 7 جولائی سے 14 اگست کے درمیان 12 بل ہی پاس کرائے جا سکے۔وہیں اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت جلد بازی میں بل پاس کرا رہی ہے اور یہ بغیر کسی تفتیش کے پاس کرائے جا رہے ہیں۔یہاں تک کہ اس معاملے پر این ڈی اے اتحادی جنتا دل یونائٹیڈ نے بھی حکومت کو آگاہ کیا ہے۔کانگریس ممبر پارلیمنٹ پردیپ بھٹاچاریہ نے کہاکہ جس طریقے سے حکومت ایوان میں بل پیش کر رہی ہے اور جس طرح انہیں جلدبازی میں پاس کرایا جا رہا ہے وہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے،جس طرح کی جانچ ان پر ہونی چاہئے وہ ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔جے ڈی یو کے ترجمان کے سی تیاگی نے بھی بلوں کو جس طرح پیش کیا جا رہا ہے، اس پر سوال اٹھایا۔تیاگی نے کہاکہ چاہے یو پی اے ہو یا این ڈی اے، ان کی جانبداری پر اپوزیشن کی جانب سے سوال کیا جاتا ہے۔صحیح یہی ہے کہ ہر پارٹی کو بل پر غور کرنے کا موقع ملے۔ایم پی کے ناطے میرا خیال ہے کہ اگر کسی بل کو خاصی تعداد میں ایم پی مقررہ میعاد میں کمیٹی کو بھیجنا چاہتے ہیں تو ایسا کیا جانا چاہئے۔حکومت نے اپوزیشن کے ان الزامات کو مسترد کیا کہ لوک سبھا میں اکثریت ہونے کی وجہ سے حکومت کی جانب سے بل جلدبازی میں پاس کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


Share: